گزند اور نہ پہنچی بس ایک سر ہی کٹا

Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabad

گزند اور نہ پہنچی بس ایک سر ہی کٹا
بڑے حساب سے خنجر عدو نے پھینکا تھا

وہ اسم لمس کہ جس کی رسائی تجھ تک تھی
مرے وجود کی لکنت میں کس طرح رکتا

اماں پرست ہوں خنجر زنی کا درس نہ دو
میں اپنے ہاتھ لہو میں ڈبو نہیں سکتا

میں چاہے اپنے ثمر دار پیڑ کاٹ بھی دوں
وہ میرے صحن میں پتھر ضرور پھینکے گا

خلا نوردو مجھے چاند پر نہ لے جاؤ
میں اس اداس زمیں کا ہوں آخری بیٹا

سزائے موت ہی دے دو جلا وطن نہ کرو
دیار غیر میں مجھ سے جیا نہ جائے گا

مرے چراغ جلے ہیں کچھ ایسی شرطوں پر
کہ ساری روشنی اس کی مگر دھواں میرا
 

Rate it:
Views: 498
07 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL