میرا قافلہ جو لٹ گیا
Poet: A Rehman Khan By: A Rehman Khan, Sargodhaمیرے سامنے ہی لٹ گیا مرا قافلہ
میرا قافلہ تھا دعاؤں کا
میرا قافلہ تھا صداؤں کا
میرا قافلہ تو محبتوں کا امین تھا
ہر 'پیادہ' تھا اشک جیسا
ہر 'شترباں' آس لے کر چپ کھڑا تھا
گھڑسواروں کی بات ہی کیا
گھڑسوار تو "منتوں" سے اٹے ہوئے تھے
میری محبت کے بوجھ سے تو
"سفید ہاتھی" سے چلنا دوبھر ہو رہا تھا
بہت سے وعدے لے کے غلماں چل رہے تھے
اپسرائیں تھیں التجائیں
بلبلیں مرے ساتھ تھیں
شادیانے بج رہے تھے
میں اس گلی کے پاس پہنچا تو شام کب کی ڈھل چکی تھی
وہ چھت پہ بیٹھا منتظر تھا
اور چاند چودہ کا لگ رہا تھا
(میں چپ کھڑا تھا)
وہ نیچے آیا اور ہنس کے بولا
کہاں سے لائے ہو جھوٹ اتنا؟
یہ جو ساماں ہے کوڑیوں میں نا بک سکے گا
تم "کھوٹے سکے"
میری توہین کر رہے ہو
تم مجھ کو چاہو، یہ بات ہے کیا؟
نظر نا آؤ۔۔۔۔جلا دو خود کو۔۔۔۔میں جا رہا ہوں
اس ایک پل میں قافلہ میرا لٹ گیا تھا
میں ہوش اپنے گنوا چکا تھا
میں وہیں پہ گر گیا تھا
اس خسارے نے توڑ ڈالی ہے کمر میری
میں جیتے جیتے ہی مر گیا ہوں
مرا قافلہ جو لٹ گیا تھا، اسکا ماتم کر رہا ہوں
میں رو رہا ہوں یا ہنس رہا ہوں
نہیں پتا ہے
بس مر رہا ہوں
بس مر رہا ہوں
بقلم عبدالرحمن خان
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






