تین برس اور سولا سال

Poet: محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottingham

 اے میرے چاہنے والے
مجھ سے بات تو کر دیکھ کہاں سے آیا ہوں
دیکھ سناٹا ہے چاروں جانب اور ہوا کی سرگوشی میں
اور ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ جملے ہیں میرے پاس
رات گئے تک ہونے والی بارش کے قطروں کی
صورت ٹپک رہے ہیں
تین برس اور سولہ دن پہلے کی گزری ہوئی شام
کوئی یہیں کہیں پہ رکی ہوئی ہے
اور ایک گہرے سایوں والے پیڑ پہ
اب بھی ہم دونوں کے نام کھدے ہیں

اے میرے چاہنے والے
تیرے سامنے اس دن ہم نے کتنی باتیں کی تھیں
تجھ کو بھی وہ یاد تو ہوں گی
سب نہ سہی پر تھوڑی تھوڑی
یہ جو ہوا کی سرگوشی ہے اس کے ٹوٹے جملوں جیسی ہے
ابھی ابھی اس تھمنے والی بارش کے ان قطروں جیسی ہے

تین برس اور سولہ دن کا ایک ایک لمحہ لایا ہوں
جنگل مجھ سے بات تو کر
دیکھ کہاں سے آیا ہوں میں
میرے چاہنے والے مجھ سے بات تو کر
تین سال اور سولا دن کی گزری شام لایا ہوں
تین برس اور سولا دن کے گزرے لمحے لایا ہوں

Rate it:
Views: 879
29 Jun, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL