میری خوشی میرے مولا مجھے عطا کردے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمیری خوشی میرے مولا مجھے عطا کردے
یا اپنی خوشی پہ ہی راضی بَرضا کردے
مار ڈالے گی میرے دل کی یہ کسک مجھ کو
مقدرسے میرے غم کے سائے جدا کر دے
تڑپ تڑپ کے نہیں مجھ سے جیا جاتا ہے
میری دھڑکنوں کو ہی دل سے جدا کر دے
بجُز تیرے نہیں ہے کوئی پُرساں میرا
چین دل کا میرے کہیں سے بھی لا کر دے
میرےمولا زندگی میں یہ معجزہ کر دے
وہ میرا نہیں بھی ہے تو اُسے میرا کردے
میرے نصیب کے کانٹے تو ہی چن سکتا ہے
گل و گلزار میرے آنگن کی فضا کر دے
ہجر کا غم تو میری زیست کا خاصہ ہے ہی
وصل کے لمحوں کو بھی مجھ سے آشنا کر دے
دامن میں میرے بھر دے غم اس کے
میرے نصیب کی خوشیا ں اسے عطا کردے
تیرے بغیر بھی میں جی سکوں ہنس کر
جاتے جاتے میرے لیے یہ دعا کر دے
میرے صیاد تجھ کو ربط ہے مجھ سے اگر
تو قیدِ الفت سے مجھے اب رہا کردے
یا د کے دریچوں سے نا جھانک رضا
تجھ سےہو سکے تو میرا یہ بھلا کر دے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






