حصارِ ذات سے نکلے تو کچھ نظر آئے

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

حصارِ ذات سے نکلے تو کچھ نظر آئے
نگاہِ شوق سے دیکھے تو کچھ نظر آئے

انا کی آگ میں جل کر دور ہے مجھ سے
وہ میرے پاس سے گزرے تو کچھ نظر آئے

وہ میرے عشق و جنوں کو رسمی کہنے والا
میرے دل میں کبھی اُترے تو کچھ نظر آئے

دل میرا خود سے ہی بیگانہ ہوا جاتا ہے
وہ بھی یونہی مجھے چاہے تو کچھ نظر آئے

فقط الفت کا واویلہ ہی کئے جانا کیوں
وہ تقاضے بھی نباہے تو کچھ نظر آئے

اپنی داستانِ غم سنا کر وہ اک لمحہ کبھی
حال میرا بھی پوچھے تو کچھ نظر آئے

مطمٔن ہے میرے چہرے کے تبسم سے جو
نگاہِ سوز میں بھی جھانکے تو کچھ نظر آئے

خلش دل میں جو بھی ہے بیاں کر دے
بھید اپنا بھی وہ کھولے تو کچھ نظر آئے

تیرے وصل کی حسرت سے رضا دل
کچھ دیر کو ہی سنبھلے تو کچھ نظر آئے
 

Rate it:
Views: 866
30 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL