میری ہستی کو تو نے زوال کیا
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky) , K.S.Aمیری محبت کو جھوٹا کہنے والے
میرے جذبوں کو تو نے نڈھال کیا
میری سادگی پر کتنے الزام لگائے
واہ تو نے بھی کیا سے کیا کمال کیا
مہنے کا وعدہ تھا تیرے لوٹ آنے کا
تو نے تو مہنوں سے اچانک سال کیا
میرے آنسو کیسا سفر کر رہے ہیں
میری ہستی کو تو نے زوال کیا
زندگی پہلے بھی کٹ رہی تھی مگر
تیرے ُدکھوں نے تو جینا محال کیا
بیوفائی کی کہانیاں تو عام ہیں جاناں
میری کہانی کو تو - ُتو نے بے مثال کیا
کہاں ہے وہ تا عمر ساتھ نبھانے والا
میرے دل نے بھی کیسا سوال کیا
مجھے ہجر کا تحفہ دے کر لکی
ُاس نے ہر کسی سے وصال کی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






