کیا ہو سکتا نہیں

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

چھو سکتا نہیں تجھے تیرا ہو سکتا نہیں
تجھ کو پا سکتا نہیں تجھ کو کھو سکتا نہیں

جب سے تجھ سے ملا ہو ں میری جان میرا یہ حال ہے
سکون سے جاگ سکتا نہیں چین سے سو سکتا نہیں

جب سے تیری خواہش اس دل میں ہوئی موجزن
کوئی اور تخم خواہش دل میں بو سکتا نہیں

غم سے نڈھال ہو ا درد سے بُرا حال ہے مگر
جب سے تو آنکھ میں آ بسا میں رو سکتا نہیں

پوری نہیں ہوتی وہ خواہش جو دل کا چین ہو
کہنے کو اس دنیا میں کیا ہو سکتا نہیں

فقط مجھ سے اتنا کہا اور وہ پھر جدا ہو گیا
ہوس سی گندگی کو میں دل میں سمو سکتا نہیں

ہر کوئی تو خطا کار ہے کنول نہ ہو مجھ سے جدا
گندگیِ نفس کو کوئی بھی دھو سکتا نہیں
 

Rate it:
Views: 474
16 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL