کیا ہو سکتا نہیں
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiچھو سکتا نہیں تجھے تیرا ہو سکتا نہیں
تجھ کو پا سکتا نہیں تجھ کو کھو سکتا نہیں
جب سے تجھ سے ملا ہو ں میری جان میرا یہ حال ہے
سکون سے جاگ سکتا نہیں چین سے سو سکتا نہیں
جب سے تیری خواہش اس دل میں ہوئی موجزن
کوئی اور تخم خواہش دل میں بو سکتا نہیں
غم سے نڈھال ہو ا درد سے بُرا حال ہے مگر
جب سے تو آنکھ میں آ بسا میں رو سکتا نہیں
پوری نہیں ہوتی وہ خواہش جو دل کا چین ہو
کہنے کو اس دنیا میں کیا ہو سکتا نہیں
فقط مجھ سے اتنا کہا اور وہ پھر جدا ہو گیا
ہوس سی گندگی کو میں دل میں سمو سکتا نہیں
ہر کوئی تو خطا کار ہے کنول نہ ہو مجھ سے جدا
گندگیِ نفس کو کوئی بھی دھو سکتا نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






