میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
Poet: Mahmood ul Haq By: Mahmood ul Haq, Lahoreمیرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے
میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے
میری مٹی میں فراقِ ہجر گئے
مہک بنی ہوا تیری جدھر گئے
بھولِ آنکھ میں میری اشکِ تر گئے
آنسو بھی تیرے بن اَبر گئے
میری کھلتی کلی سے بھی ثمر گئے
تیرے گرتے بیج بھی بن شجر گئے
پیالہ میرے میں بھر وہ زہر گئے
کشکول تیرے میں ڈال اثر گئے
خاکِ سکوت میں خوف ٹھہر گئے
روحِ رواں میں تیرے مد و جزر گئے
میرے عشق میں بینا بھی تو نظر گئے
تیرے حسن کے تارے بن اطہر گئے
شکوہ نہیں رہ اب عزر گئے
رحمت سے بھی اب ہو احمر گئے
دبیز تہہ بھی اب بن راہ گزر گئے
رکتے شب میں دن میں سفر گئے
دل لگی رکھی تو چلے دلبر گئے
نظر سے جو چوکے تو قلب میں نشتر گئے
ڈھونڈتے ہم انہیں نہ جانے کدھر گئے
کچھ اِدھر تو کچھ رہ اُدھر گئے
نفرت نشاں رہ اب بشر گئے
شاھین کے دوست بن کبوتر گئے
بچاتے نہیں جو جل شرر گئے
قلم سے جب نکلے تو بن نشر گئے
کبود انعام سے بھی وہ مکر گئے
سانس لینے میں ہی وہ سجدہ شکر گئے
نام لینے سے جن کے جھک سر گئے
سجدہ میں ہی ان کے ہو بلند فخر گئے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






