میرے ہونٹوں پہ کوئی حرفِ دعا رہنے دو
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمیرے ہونٹوں پہ کوئی حرفِ دعا رہنے دو
پاس میرے بھی تو کچھ بہرِ خد ا رہنے دو
مجھ کو اس سے نئے رِشتے کی مہک آتی ہے
میرے ہاتھوں پہ کھلِا رنگِ حِنا رہنے دو
مجھ کو اِقرار ہے بے مایہ ، تہی دامن ہوں
میرا سرمایہ ہے بس میری انا رہنے دو
لوٹ جانے کے لئے اس کو نہ کرنا مجبور
دِل کا دروازہ کھلُا ہے تو کھلُا رہنے دو
بڑی مشکل سے تو ہموار ہوئی ہے یہ فضا
دوستی کی یونہی قائم یہ فضا رہنے دو
کیا ضروری ہے اسے توڑ کے پھینکا جاۓ ؟
شاخ پہ پھول کھِلا ہے تو کھلِا رہنے دو
ایک چھوٹا سا جو روزن ہے مرے زنداں میں
اس سے آتی یہ ذرا سی تو ہوا رہنے دو
دِل جو ٹوٹے گا تو پھر جڑُ نہ سکے گا عذراؔ
اب نہ بھاۓ گی ہمیں کوئی ادا ، رہنے دو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






