ہمدرد ہے تو ایسی سزا دے رہا ہے کیوں ؟

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

ہمدرد ہے تو ایسی سزا دے رہا ہے کیوں ؟
جھوٹی تسلیوں کی رِدا دے رہا ہے کیوں ؟

اب کوئی میرے گھر کا دریچہ کھلا نہیں
جھونکا ہوا کا مجھ کو صدا دے رہا ہے کیوں ؟

بن کے بھی میرا بن نہ سکا یہ بھی کم نہیں
بے ا عتباریوں کی سزا دے رہا ہے کیوں ؟

جو دب چکی تھیں وقت کی برفیلی راکھ میں
چنگاریوں کو اب وہ ہوا دے رہا ہے کیوں ؟

لمحہ جو گِر گیا تھا کبھی میرے ہاتھ سے
جینے کی آج مجھ کو ادا دے رہا ہے کیوں ؟

وہ مہرباں ہے یا کوئی نا مہربان ہے
جو جا چکا تھا اُس کا پتہ دے رہا ہے کیوں ؟

جب جانتا ہے مجھ کو ملی کیسی زندگی
پھر زندگی کی مجھ کو دعا دے رہا ہے کیوں ؟

ہے اجنبی تو پھر کیوں اُسے فِکر ہے مری
عذراؔ وہ دردِ دِل کی دوا دے رہا ہے کیوں ؟

Rate it:
Views: 738
09 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL