میں آئینہ تھا وہ میرا خیال نہ رکھتی تھی
Poet: Momina By: Momina, Multanمیں آئینہ تھا وہ میرا خیال نہ رکھتی تھی
میں جڑتا تھاوہ توڑ تاڑ کے رکھتی تھی
کسی بھی مسئلے کا حل نہیں تھااس کے پاس
بلا کی کند ذہن تھی مجھے حیرت میں ڈال رکھتی تھی
میں جب بھی تعلق جوڑنے کی بات کر تا تھا
وہ روکتی تھی مجھے کل پہ ٹال رکھتی تھی
وہ میرے زخموں کو کریدتی تھی اپنے ناخنوں سے
پھر اس رِستے زخموں پہ نمک چھڑ کا کے رکھتی تھی
وہ ابھرنے ہی نہی دیتی دکھ کے دریا سے مجھے
بمشکل میں نکلتا تھا وہ واپس اچھال رکھتی تھی
حسیناوں کو وہ بلائیں سمجھ کےروک لیتی تھی
وہ میرے چار سو تلواروں کی ڈھال رکھتی تھی
اک ایسی گرج کہ جان و دل دہل جائیں
اسکی منفرد ہنسی ہاتھی کی چنگاڑ کا سا کمال رکھتی تھی
اسے آسانیاں میری کہاں گوارہ تھیں
وہ ہر وقت مجھے مشکل میں ڈال رکھتی تھی
بچھڑ کے اس سے میں بہت مزے میں ہوں
وہ پاس تھی تو میرا جیناحرام رکھتی تھی
وہ منتظر رہتی تھی کہ کب موسمِ گرما آئے
وہ سخت دھوپ میں مجھے کان پکڑوا کے کھڑا رکھتی تھی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






