میں سمندروں کا مزاج ہوں ابھی اس ندی کو پتا نہیں
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمیں سمندروں کا مزاج ہوں ابھی اس ندی کو پتا نہیں
سبھی ندیاں مجھ سے ملیں مگر میں کسی سے جا کے مِلا نہیں
میرے دل کی سمت نہ دیکھو تم، کسی اور کا یہ مقام ہے
یہاں اس کی یادیں مقیم ہیں، یہ کسی کو میں نے دیا نہیں
مجھے دیکھ کے نہ جھُکا نظر، نہ کواڑ دل کے تو بند کر
تیرے گھر میں آؤں گا کس طرح کہ میں آدمی ہوں ہوا نہیں
میرے دل کی خوشبو سے بھر گیا، وہ قریب سے یوں گزر گیا
وہ میری نظر میں تو پھول ہے اسے کیا لگا میں پتا نہیں
میری عمر بھر کی تھکاوٹیں تو پلک جھپکتے اُتر گئیں
مجھے اتنے پیار سے آج تک کسی دوسرے نے چُھوا نہیں
یہ مقدروں کی لکھاوٹیں جو چمک گئیں وہ پڑھی گئیں
جو میرے قلم سے لکھا گیا اسے کیوں کسی نے پڑھا نہیں
یہ بدر اب بھی سوال ہے کہ بے رخی ہے کہ پیار ہے
کبھی پاس اس کے گیا نہیں کبھی دُور اس سے رہا نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






