رفتہ رفتہ رنگ میں تبدیلی ہو گی خاکِ خس

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

رفتہ رفتہ رنگ میں تبدیلی ہو گی خاکِ خس
قطرہ قطرہ زندگی ٹپکا رہی ہے اپنا رس

موت جن شہروں کو اجزائے پریشاں کر چکی
پھر انہیں چھونے لگا زیست کے ہاتھوں کا حبس

ہاں کبھی دو بے تکلف دوستوں کے بیچ
خاموشی اتنی اذیت ناک ہوتی ہے کہ بس

خشک پتوں سے یہ کہہ کر رو پڑی جاتی ہے بہار
پھر ملیں گے زندگی لائی اگر اگلے برس

صبح بستر سے اٹھی انگڑائیاں لیتی ہوئی
دُھوپ کی آہٹ پہ چونک اٹھے ہیں مندر کے کلس

اور دنیا کی محبت بڑھ گئی یہ جان کر
سب فنا ہو جائے گا اللہ بس باقی ہے بس

Rate it:
Views: 447
23 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL