میں کس کس روپ میں تیرے ساتھ ہوں
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiمیں کس کس روپ میں تیرے ساتھ ہوں
........
قرب کا خواب تعبیر ہونے لگا
تھی بہت پاس آنے کی جو آرزو
تجھ کو اپنا بنانے کی جو آرزو
آرزو جب وہ آتش میں ڈھلنے لگی
میرا جسم اور مری جاں پگھلنے لگی
اور پھر ایک دن سب کا سب جل گیا
پر فنا نہ ہُوا
اور قالب ملے
جن میں، میں ڈھل گیا
لفظ میں بن گیا
لفظ، جن کو ترے ہاتھ چھوتے رہے
لفظ، جن کو تری آنکھ پڑھتی رہی
لفظ، جن میں کہانی تری اور مری
لفظ، تو جس کہانی کا عنواں بنی
بن کے جھونکا ترے پاس میں آگیا
تجھ کو چھونے لگا
تیرے بالوں کو آکر ستانے لگا
میں ترے جسم پر سرسرانے لگا
اور سانسوں میں تیری سمانے لگا
بن گیا روشنی
تیرے کمرے کی تاریکیوں سے لڑا
تیری آنکھوں میں، میں جگمگانے لگا
تیرے دل کا اندھیرا مٹانے لگا
دھوپ بن کر میں اترا ترے جسم پر
زندگی کی حرارت جگانے لگا
تیرے چہرے کی سُرخی بڑھانے لگا
دہکتی گرمیوں میں ہُوا آب میں
حدتیں تیرے تن کی گھٹاتا رہا
خود کو تیرے بدن پہ بہاتا رہا
برف جیسی دسمبر کی راتیں تجھے
جب ستانے لگیں، خوں جمانے لگیں
روئی بن کر ترے جسم پر آگیا
خنکیوں سے بچانے ترے جسم کو
تجھ پہ میں چھاگیا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






