میں ہُوں ذرّہ تُو اگر آفتاب اپنے لیئے
Poet: رشید حسرتؔ By: Ghamgeen Poetry, Quettaمیں ہُوں ذرّہ تُو اگر آفتاب اپنے لیئے
تیرے سپنے ہیں، مِرے ٹُوٹے سے خواب اپنے لیئے
میں نے سوچا ہے کِسی روز چمن کو جا کر
چُن کے لاؤں گا کوئی تازہ گُلاب اپنے لیئے
جِن کی تعبِیر نہِیں خواب وہ دیکھے میں نے
شب گُزشتہ ہی تو سُلگائے وہ خواب اپنے لیئے
تِیس پاروں کے تقدُّس کی قسم کھاتا ہوں
نُور کا دھارا ہے یہ پاکِیزہ کتاب اپنے لیئے
وقت کی دُھوپ کو چھاؤں میں بدل لیتے ہیں
میں ہوں خیمہ تو مِرے دوست تناب اپنے لیئے
میں نے پُوچھا تو فقط اُس نے خموشی اوڑھی
تو یہ مثبت ہے کہ ہے منفی جواب اپنے لیئے؟
کیوں بھلا کچّے گھڑوں پہ بھی بھروسہ رکھیں
چھوڑ دے راستہ، دریائے چنابؔ! اپنے لیئے
بہتے دریاؔ پہ روانی ہے، ابھی زندہ ہیں
لے ہی لیجے گا کوئی توشہ جناب اپنے لیئے
لوگ، لوگوں کا لہو پِیتے ہیں تو کُچھ بھی نہِیں
اور ہوتی ہے حرام صِرف شراب اپنے لیئے
میں اُٹھاتا ہوں ابھی اپنے گُناہوں کا بوجھ
تُو نے تو چُن کے کتابوں سے ثواب اپنے لِیئے
مُجھ کو تسلیم حویلی ہے تِرے پاس بھلے ہو گی جناب
ماورا محل سے ہے جھونپڑا، صاب اپنے لیئے
ہم بھی اک روز ترقّی کی ڈگر پر ہوں گے
بات یہ گویا ہے صحرا کا سراب اپنے لیئے
کوئی جانے سے کِسی کے نہِیں مرتا حسرتؔ
صِرف یادیں ہی تو ہوتی ہیں عذاب اپنے لیئے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






