میں یار کا جلوا ہوں
Poet: بیدم شاہ وارثی By: Hassan, Karachiمیں یار کا جلوا ہوں
یا دیدۂ موسیٰ ہوں
قطرہ ہوں نہ دریا ہوں
بستی ہوں نہ صحرا ہوں
جینا مرا مرنا ہے
مرنے کو ترستا ہوں
اپنی ہی امیدوں کا
بگڑا ہوا نقشا ہوں
ارمانوں کا گہوارا
حسرت کا جنازا ہوں
اس عالم ہستی میں
یوں ہوں کہ میں گویا ہوں
زندہ ہوں مگر بیدمؔ
اک طرفہ تماشا ہوں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






