ناکارو
Poet: Adnan Ahmed By: Adnan Ahmed Azeemi, Karachiنہ کرو محبت
تمہارے چہرے کی معصومیت
کرب میں بدل جائے گی
تمہاری شوخ نگاہوں میں
اداسی اتر آئے گی
تم تو کسی کی بات نہیں سنتے
لوگوں کے طنز کیسے برداشت کرو گے
دوست طرح طرح کے سوال کریں گے
بھلا تم کیا جواب دو گے
تنہا اداس راتوں میں
ستارے گنوں گے یا پھر
چاند کا دامن پکڑ کے رؤں گے
تم تو تنہائی سے ڈرتے ہو
پھر بھلا تنہا تنہا کیسے رہو گے
نہ کرو محبت
تمہارے چہرے کی معصومیت
کرب میں بدل جائے گی
تمہاری شوخ نگاہوں میں
اداسی اتر آئے گی
ہر طرف زمانے کی نگاہیں ہیں
تم کب تک اپنی آنکھوں میں خواب چھپاؤ گے
کبھی تو پت جھڑ کا موسم آئے گا
کبھی تو خواب آنکھوں سے برسیں گے
تم بھلا ضبط کے بندھن کیسے باندھو گے
محبت جھلکتی ہے تمہاری آنکھوں سے
کس کس سے اپنی آنکھیں چھپاؤ گے
تمہیں تو اکثر بھول جانے کی عادت ہے
میں تمہارے حافظے پہ نقش ہوجاؤں تو
تم مجھے بھلا کیسے مٹاؤ گے
نہ کرو محبت
تمہارے چہرے کی معصومیت
کرب میں بدل جائے گی
تمہاری شوخ نگاہوں میں
اداسی اتر آئے گی
کبھی تنہائی میں سوچو گے
کبھی بے نیند خواب دیکھو گے
اور جب کبھی خواب کو ٹوٹتا دیکھو گے
زندگی تو الجھ جائے گی انہی خوابوں میں
بھلا پھر ان خوابوں کے سحر سے کیسے بچ پاؤ گے
کسی کی طلب میں دور جانے کے بعد
اکثر واپسی کے راستے کھو جاتے ہیں
جس کے ہجر میں اپنی نیند گنواؤں گے
اگر اسے پا نہ سکے تو پھر
بھلا تم اسے کیسے بھولاؤ گے
نہ کرو محبت
تمہارے چہرے کی معصومیت
کرب میں بدل جائے گی
تمہاری شوخ نگاہوں میں
اداسی اتر آئے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






