نصیب میں ہے جدائی تو رونا دھونا کیا
Poet: جمال By: جمال, Attockنصیب میں ہے جدائی تو رونا دھونا کیا
ہے ساری چیز پرائی تو رونا دھونا کیا
یہاں تو اپنے ہی اپنوں کو مار دیتے ہیں
ہوا نے شمع بجھائی تو رونا دھونا کیا
اسی نے ہاتھ بڑھایا تھا دوستی کے لئے
اسی نے بات بڑھائی تو رونا دھونا کیا
مرے عزیز ہی جب میرے منحرف نکلے
ہوئی خلاف خدائی تو رونا دھونا کیا
ہزار سال کے جب بوڑھے مر گئے شوقیؔ
کمائی چیز گنوائی تو رونا دھونا کیا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






