والدین کا احترام
Poet: wasif uz zaman katib By: wasif uz zaman, bhimber AJ&Kبولنا سکھایا تجھے جس نے تمیز سکھا رہا ہے اسے
مہذب بنایا تجھے جس نے جاہل پکار رہا ہے اسے
بڑھاپا خریدا تیری جوانی کے عوض جس نے
بوڑھے کا لقب دے دیا آج تو نے اسے
تیرے اک سوال کا دیتے تھے ہزار بار جواب
دوبارہ پوچھنے پے خاموش کروا رہا ہے اسے
ہر خواہش کی تیری پوری اپنا پیٹ کاٹ کر
اسپتال لے جانے سے انکار کر رہا ہے اسے
خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں تیرا نام سن
محفل میں ان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں تجھے
بلامعاوضہ عمر بھر وکالت کی تیرے ماں باپ نے
آج خود سے بات کرنے سے بھی منع کر رہا ہے اسے
جن کے سر سے سایہ اٹھ گیا ہے ان کا نا پوچھو کاتب
رب کی رضا،جنت کی ہوا ہوتی ہے کیا نہیں معلوم اسے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






