رفاقت
Poet: wasif uz zaman katib By: wasif uz zaman, bhimber AJ&Kسمجھ رہا ہے تو جن کو خیر خواہ اپنا
اسی زبان سے کہے گا حقیقی دشمن ان کو
وقت کے ساتھ یوں بدلیں گے تیرے آشنا
ساتھ ہو کر بھی سمجھ نہ پائے گا ان کو
یہ دستور دنیا ہے کہ حد میں رکھو سب کو
جو حد سے گزر جائیں سلام کہہ دو ان کو
تیری رفاقت تیری محبت کسی کام نہ آئی ترے
ایسے بکھرے وہ کہ سنبھال نا پایا تو ان کو
بہت کارگر ہوا ثابت جو کیا وار سب نے
پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھ سکا تو ان کو
ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے چلتا ہے تو جن کے ساتھ
یاد کرکے بھی نہ یاد آئیں ایسا بھول جائے گا ان کو
انسانیت کو ڈھونڈ انسان کو چھوڑ اے کاتب
دل تیرا ہو دھڑکے ان میں،تلاش کر ان کو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






