وفا کی راہ پہ چل کے یہ پائی کیسی سزا
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanوفا کی راہ پہ چل کے یہ پائی کیسی سزا
ملے ہیں درد و الم مجھ کو بس ملی ہے جفا
عزیز لوگوں کو اپنا مفاد ہوتا ہے
کسی کے غم میں کسی نے نہیں ہے ساتھ دیا
منافقت میں وہ اوروں سے بڑھ کے ہی نکلا
کبھی جو مجھ کو لگا تھا زمانے بھر سے جدا
سمجھ یہ بیٹھا تھا رستہ کٹھن تمام ہوا
جو دیکھا سامنے صحرا کے بعد تھا صحرا
ہیں تیرے بعد بھی نغمے ترے ، تری یادیں
کہ گونجتی ہے فضاؤں میں اب بھی تیری صدا
یہ طے ہے دوست تو اب لوٹ کے نہ آئے گا
مگر یہ در تو رہے گا ترے لیے ہی کھلا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






