وقت ہے آخری، سانس ہے آخری
Poet: شکیل بدایونی By: Haroon, Karachiوقت ہے آخری، سانس ہے آخری
زندگی کی ہے شام آخری آخری
سنگِدل آ بھی جا اب خُدا کے لیے
لب پہ ہے تیرا نام آخری آخری
کوئی کرتا ہے مُلکِ عدم کا سفر
اُن سے کہنا تمھیں ڈُھونڈتی ہے نظر
نامہ بر تُو بھی جا اب خُدا کے لئے
دے دے اُن کو پیام آخری آخری
توبہ کرتا ہوں کل سے پیوں گا نہیں
مے کشی کے سہارے جیوں گا نہیں
میری توبہ سے پہلے، مِرے ساقیا!
دے دے تھوڑا سا جام آخری آخری
میرا پینا پِلانا سَبھی ختم کر
اِک نیا جام دے، اِک نئی رسم کر
پینے والوں کی فہرست میں ، ساقیا
لکھ بھی دے میرا نام آخری آخری
مجھ کو یاروں نے نہلا کے کفنا دِیا
دو گھڑی بھی نہ بیتی، کہ دفنا دِیا
کون کرتا ہے غم ، بس نکلتے ہی دَم
کر دِیا اِنتظام آخری آخری
میری میّت کو دُولھا بنایا گیا
اور گورِ غریباں میں لایا گیا
منہ سے رسمِ کفن کو ہٹایا گیا
دیکھ لیں خاص و عام آخری آخری
عِشق ہی ابتدا ، عِشق ہی اِنتہا
عِشق میں کھوگئے ، ہم تِرے ہوگئے
عِشق نے کرلیا فیصلہ آخری
عِشق میرا امام آخری آخری
جیتے جی قدر میری کسی نے نہ کی
زندگی بھی مِری بے وفا ہوگئی
دُنیا والو! مُبارک ہو دُنیا تمھیں
کر چلے ہم سلام آخری آخری
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






