وہی ہوں میں ذرا یاد کر
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadپہچان تو اقرار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
امتحاں میرا سو بار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
ماضی میں اِک بار جا کر وہاں سے کچھ وفا لا کر
میرا اِک بار اِعتبار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
وہی ہوں میں تجھے جس سے پیار تھا بےحساب تھا
غیر بن کر نہ تو وار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
ابھی نہ مجھے ستانا تُو ابھی نہ مجھے مٹانا تُو
ابھی تُو کچھ انتظار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
میری محبت مجھے لوٹا رنگ محبت کے پھر دیکھا
پاس آ پھر تو پیار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
مان جا تُو اب نہ ضد کر تُو اب اِس ضد کی بھی حد کر
قسم سے اب نہ انکار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
اسے دیدے واسطِ رب اسے کہہ دے ابھی ساجد
اتنا بھی نہ بے قرار کر وہی ہوں میں ذرا یاد کر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






