وہ آسماں لوگوں کا تماشا جو بنا ہے۔
Poet: #Mehik Yousafzai By: Mehik Yousafzai, Peshawarہر غم سے میدری روح کا رشتہ جو بنا ہے
ہر درد سے ایک خون کا دریا جو بنا ہے
آنکھوں کو بند کر کے یہی خواب آیا تھا
دیکھا تھا کہ لکڑی کا ایک جھونپڑا جو بنا ہے
دھیرے سے وہ جھونپڑی بھی بکھرنے لگی تھی اب
آسمان کا ٹوٹا ہوا تارا جو بنا ہے
گر گر کے جو سنبھال رہی تھی میں وجود کو
اب دیکھ لو وہ ریت کا صحرا جو بنا ہے
اس ریت کو مٹھی بنا کے گھر بنایا تھا
وہ بارش کی ہر بوند سے دریا جو بنا ہے
جس (مہک)نے آسمان کو چھوا تھا بہت بار
وہ آسماں لوگوں کا تماشا جو بنا ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






