وہ تیرے حسن کے سب ماہتاب میرے نہ تھے
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanخموش رات کے آنگن میں اک اداسی ہے
تپش ہے دل میں مرے ،روح میری پیاسی ہے
گزر گیا جو زمانہ وہ یاد آتا ہے
محبتوں کا فسانہ مجھے رلاتا ہے
وہی ہے حسن ترا آج بھی خیالوں میں
میں بھول پایا نہیں تجھ کو اتنے سالوں میں
بجھی امنگوں کی جلتی ہے آگ سینے میں
بھرا ہے زہر مری زندگی میں ، جینے میں
اگرچہ میں نے بہت چاہا بھول جاؤں تجھے
دکھائی دے نہ مجھے ، میں نظر نہ آؤں تجھے
مگر میں تیرے خیالوں سے جاں چھڑا نہ سکا
جو چاہا بھی تو کبھی کھل کے مسکرا نہ سکا
وہ تیرا چاندنی راتوں میں میرے پاس آنا
نظر اٹھا کے جھکانا ، وہ تیرا شرمانا
بھلاؤں کیسے بتا ساتھ گزرے لمحوں کو
تری ہنسی کو، تری مہکی مہکی سانسوں کو
مرے لیے تو بہت بے قرار رہتی تھی
“ہوں تیری روح کی ساتھی“ یہ مجھ سے کہتی تھی
“تری ہی تھی، ہوں تری، میں رہوں گی بس تیری “
وفا ہوئے نہ یہ وعدے ، نہ ہو سکی میری
حنا کے رنگ ،بدن کے گلاب میرے نہ تھے
وہ تیرے حسن کے سب ماہتاب میرے نہ تھے
تو مل سکی نہ مجھے زندگی کی راہوں میں
میں یاد آج بھی کرتا ہوں سرد آہوں میں
تری جدائی کا اب زہر پی رہا ہوں میں
یہ زندگی تو نہیں پھر بھی جی رہا ہوں میں
مری ویران سی دنیا کو آکے دیکھ ذرا
کبھی تو آکے تسلی دے، حال پوچھ مرا
مگر تو چاہ کے بھی مجھ سے مل نہیں سکتی
کلی کسی کی مرے گھر میں کھل نہیں سکتی
سماج کی یہ دیواریں گرا نہ پائے گی
پابندیاں ہیں کچھ ایسی ہٹا نہ پائے گی
جیا ہوں تیرے بنا اب بھی زندہ رہ لوں گا
تری جدائی کا کچھ اور رنج سہہ لوں گا
ترے سہاگ پہ غم کی گھٹا نہ چھائے کبھی
دعا ہے تیرے چمن میں خزاں نہ آئے کبھی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






