وہ عشق ہم سے روٹھ گیا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, Haroonabadوہ عشق ہم سے روٹھ گیا
زندگی کا سہارا چھوٹ گیا
بے مول کے جذبوں سے
دو پل کی محبتوں سے
دامن میرا لٹ گیا
عشق ہم سے
چاند نگر کی ملاقاتوں سے
ستاروں کی راتوں سے
تعلق میرا ٹوٹ گیا
عشق ہم سے
بے ساز ہواؤں سے
گلناز صداؤں سے
بے وجہ سنگھار سے
دل بیقرار سے
ناطہ میرا ٹوٹ گیا
عشق ہم سے
شام کی اداس دہلیز سے
لدت محبت کی لذیذ سے
بے رنگ آنکھوں سے
تڑپتی سانسوں سے
جذبوں کی سفاکی سے
چاہتوں کی خاکی سے
دل میرا ٹوٹ گیا
عشق ہم سے روٹھ گیا
پرندوں کی چالوں سے
جنگلوں کے جالوں
آشیانہ میرا لوٹ گیا
عشق ہم سے روٹھ گیا
لاحاصل محبت سے
پامال عزت سے
پریوں کی وادی سے
کھلونوں کی شادی سے
بچپن میرا روٹھ گیا
وہ عشق ہم سے روٹھ گیا
ذندگی کا سہارا چھوٹ گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






