پوچھو نہ مجھ سے
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabadپوچھو نہ مجھ سے زخم لگا ہے کہاں کہاں
روح تک پکارتی ہے خدارا اماں اماں
کس درجہ لوگ لزت آہ و بکا میں ہیں
سب ڈھونڈتے ہیں ماس کا ٹکڑا بچا کہاں
کتنا کٹھن ہے سانس کا لینا بھی اس لمحے
ڈوری مری حیات کی کٹنے و ہے یہاں
وہ کیا ہؤے جو دوست ہؤے تھے کبھی مرے
پہچانتے نہیں ہیں ملےوھ جہاں جہاں
خود غرضئ رفیق نئ بات تو نہیں
لٹتے ہیں راہروں سے کئی کارواں یہاں
مولا تو تنگ دستئ حالات سے بچا
بکھرے ہں آشیانے کے تنکے یہاں وہاں
طاہر سدا سے تیرے تؤکل پہ تھا فقیر
کب مانگتا تھا تیرے سوا سے یہ ناتواں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






