پوچھے گا
Poet: By: Umair Khan, Karachiاداس دیکھ کے وجہِ ملال پوچھے گا
وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا
جواب دے نہ سکو گے پلٹ کے ماضی کو
اک ایک لمحہ وہ چبھتے سوال پوچھے گا
دلوں کے زخم دہن میں زباں نہیں رکھتے
تو کس سے ذائقۂ اندمال پوچھے گا
کبھی تو لا کے ملا مجھ سے میرے قاتل کو
جو سر ہے دوش پہ تیرے وبال پوچھے گا
یہ کیا خبر تھی کہ سینے کے داغ لو دیں گے
کوئی جو محنت فن کا مآل پوچھے گا
تو حرف عشق و بصیرت ہے لب نہ سی اپنے
زمانہ تجھ سے بھی تیرا خیال پوچھے گا
مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت
خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا
بنا کے پھول کی خوشبو پھرائے گی صدیوں
ہوا سے کون رہ اعتدال پوچھے گا
یہ ایک پل جو ہے مجہول شخص کی صورت
مزاج آگہی ماہ و سال پوچھے گا
یہاں تعین اقدار بھی ضروری ہے
خود اپنے مشک کی قیمت غزال پوچھے گا
مرا قلم ابدیت کی روشنی ہے فضاؔ
اس آفتاب کو اب کیا زوال پوچھے گا
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






