پھر کسی آس پہ لوگوں کو بھلایا جائے
زیست کا زہر بھی ہنس ہنس کے پلایا جائے
گو وفا راس نہیں سادہ دلوں کو لیکن
ہم ہیں مجبور وفا تجھ کو دکھایا جائے
زندگی تیری عداوت ہے ہماری قسمت
تری خوشیوں کا ابھی جام پلایا جائے
وہ ہیں مشہور جفاؤں میں زمانے بھر میں
ہونٹ الفت کے طلبگار سنایا جائے
اپنی ہستی کے سبھی نقش مٹا دوں ،چاہوں
جسکو آنا تھا ابھی تک وہ نہ آیا جائے
اپنے ہر جائی کو ہر وقت دعا ہی دی ہے
آتشِ ہجر میں خود کو ہی جلایا جائے
جس نے زندانِ محبت میں سزا دی مجھ کو
میں نے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا جائے
شوق تخریب سے بچنا ہے ہمیشہ وشمہ
شوق تنہائی میں زندہ ہیں بھلایا جائے