پھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKپھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
اب کے ساون تری چاہت کی ادا لایا ہے
کچھ تو رکھ لیجے بھرم آپ مری چاہت کا
چھوڑ کر سارا جہاں آپ کو اپنایا ہے
نہ کیا دل نے مگر ترکِ تعلق تم سے
لاکھ ہم نے دلِ نادان کو سمجھایا ہے
یہ مرے صبر کا اعجاز ہی ہوگا شائد
بعد مدت کے اسے میرا خیال آیا ہے
یہ بھی طوفان کی معصوم شرارت ہو گی
ساتھ اپنے جو کئی پھول اڑا لایا ہے
چاہتیں اپنی سبھی جس پہ نچھاور کر دیں
لمحہ لمحہ مجھے اُس شخص نے ترسایا ہے
جب بھی محسوس ہوا تجھ کو ہے پانا مشکل
میں نے دل اپنا ترے خوابوں سے بہلایا ہے
آج اپنوں کی محبت بھی مرے ساتھ نہیں
میری تقدیر نے کیا دن مجھے دکھلایا ہے
آج بھی رحم کی اس سے ہے توقع مجھ کو
جس نے زندہ مجھے دیوار میں چنوایا ہے
موسمِ گل ترے آنے کی خبر دیتا ہے
سرد جھونکا ترا پیغام کوئی لایا ہے
کون سمجھاۓ اسے میری حقیقت عذراؔ
میں نے کھویا ہے بہت کچھ تو اسے پایا ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






