جو وفا کی راہ میں پیرہن لئے تار تار چلے گئے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجو وفا کی راہ میں پیرہن لئے تار تار چلے گئے
انھیں کس طرح سے بلائیں ہم جو افق کے پار چلے گئے
لئے دِل میں دِل کے ہزار غم تیرے دِلفگار چلے گئۓ
کوئی جا کے اس کو خبر کرے ترے جانثار چلے گئے
چلی ایسی بادِ سموم کچھ کہ وفا کا باغ ا جڑ گیا
کبھی جن کی چھاؤں نصیب تھی وہی شاخسار چلے گئے
کبھی تو ہی جانِ حیات تھا ہوا آج مجھ پہ یہ منکشف
پِھرا رخ ہواؤں کا یوں مگر سبھی اِختیار چلے گئے
مرے دِل کا درد مٹا دیا مرے چارہ گر ترا شکریہ
تیرے تیر کش میں جو تیر تھے وہ جگر کے پار چلے گئے
اے امیرِ شہر بتا ذرا کِسے اب نِشانہ بناۓ گا ؟
جنھیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے
جو جہاں میں سچ کے امین تھے ملی داد ان کو تو یوں ملی
کہ گئے تو دامنِ جسم و جاں لئے تا ر تار چلے گئے
نہ جنوں رہا نہ وہ بانکپن ، نہ وہ صبح و شام کی فرصتیں
ترے عشق میں جو نصیب تھے وہ سبھی خمار چلے گئے
( طرحی مشاعرے میں بر زمین فیض لکھی گئی غزل )
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






