جو وفا کی راہ میں پیرہن لئے تار تار چلے گئے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجو وفا کی راہ میں پیرہن لئے تار تار چلے گئے
انھیں کس طرح سے بلائیں ہم جو افق کے پار چلے گئے
لئے دِل میں دِل کے ہزار غم تیرے دِلفگار چلے گئۓ
کوئی جا کے اس کو خبر کرے ترے جانثار چلے گئے
چلی ایسی بادِ سموم کچھ کہ وفا کا باغ ا جڑ گیا
کبھی جن کی چھاؤں نصیب تھی وہی شاخسار چلے گئے
کبھی تو ہی جانِ حیات تھا ہوا آج مجھ پہ یہ منکشف
پِھرا رخ ہواؤں کا یوں مگر سبھی اِختیار چلے گئے
مرے دِل کا درد مٹا دیا مرے چارہ گر ترا شکریہ
تیرے تیر کش میں جو تیر تھے وہ جگر کے پار چلے گئے
اے امیرِ شہر بتا ذرا کِسے اب نِشانہ بناۓ گا ؟
جنھیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے
جو جہاں میں سچ کے امین تھے ملی داد ان کو تو یوں ملی
کہ گئے تو دامنِ جسم و جاں لئے تا ر تار چلے گئے
نہ جنوں رہا نہ وہ بانکپن ، نہ وہ صبح و شام کی فرصتیں
ترے عشق میں جو نصیب تھے وہ سبھی خمار چلے گئے
( طرحی مشاعرے میں بر زمین فیض لکھی گئی غزل )
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






