پھولوں کی سیج
Poet: Abid Hussain By: Abid Hussain, Gujratاک بچی تھی
عمر اور ذہن کی لیکن کچی نہیں تھی
مگر باپ اپنے کے لیے وہ بچی ھی تھی
بچی تھی اپنے ھی خیالوں میں اک دن کھوئی ھویئ
تھی وہ دنیا کے دکھوں سے کچھ گھبرائی ھوئی
بہت دنوں سے نہ تھی وہ سکون کی نیند سوئی
باپ نے پوچھا جو ماجرا امنے لخت جگر سے
پھر حا ل دل جو بیان کیا ابیٹی نے اپنے پدر سے
دل پریشان سا رھتا ھے اس دنیا کے ضرر سے
پھٹ گیا باپ کا جگر دیکھ کے اپنی بچی کو
جھٹ سے لگایا پھر سینے سے اپنی بچی کو
جی بھر کے پھر کیا پیار باپ نے اپنی بچی کو
باپ کے سینے سے لگ کے بچی پھر خوب روئی
بچی نہ تھی زندگی میں کبھی ایسی شدت سے روئی
باپ کی بپتا بھی تھی پھر ایسے ھی شفقت سے روئی
رکھ کے اپنا سر بچی باپ کی گود میں
بچی بڑے سکون کی نیند پھر تھی سویئ
بچی تھی بڑے دنوں بعد ایسے سکون سویئ
پھولوں کی سیج تھی جب باپ کی گود ھویئ
ھاں باپ کی گود بچی کے لئے تھی پھولوں کی سیج ھوئی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






