ايک معصؤم ننهےفرشتےكئ فرياداپنی ماں كےنام
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreماں تم کيوں زار و زاررو رهی هو ماں
ميری ماں کو اٹهاؤ كيوں بےهوش هو رهی هو ماں
ماں ميری طرف ديكهؤ ميں تمهارےسامنےهوںماں
ماں كيؤں مجھ كؤ نہلايا جا رها هے ماں
ماں مجھ كو كيؤں سفيدلباس اوڑهايا جا رها هے ماں
ماں مجھ كوچهين كر تيری گود سے كيؤں لےجايا جا رها هے ماں
ماں يه كيسی جگه مجھ كو سلايا جا رها هے ماں
ماںكہنےكو تو ميں يہاں پر سو رہا هوں ماں,
ماں مگر مجه كؤ نيند يہاں پر آتی نہيں هے ماں
ماں مجھ كو باہرنكالو ميں اكيلا رؤ رها هوں ماں
ماںبہت اندهيرا هے يہاں پر مجهے ڈر لگ رہا هے ماں
ماں مجهےكيؤں تجھ سے بهت دور كيا جا رها هے ماں
ماں ميری كو سنبهالو زرد پڑتی جا رهي هے ماں
ماں يہاںكا بسترمجهے ذرا اچها نهيں لگت
ماں اس دنيا سےمجهےاپنےآنچل ميں چهپا لو ماں
ماں مجهے تیرئ گودچاهے مجهےاپنی گود ميں بٹها لو ماں...
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






