پیمانہ کوئی ہے؟
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaجِیون یہ مِرے درد کا افسانہ کوئی ہے
آنکھوں میں مگر جلوۂِ جانانہ کوئی ہے
غم دِل کے درِیچے پہ دِیئے جائے صدائیں
بے ماپ ہے یا درد کا پیمانہ کوئی ہے؟
آئے ہو ابھی، آتے ہی جانے پہ بضِد ہو
اِس طرز سے مِلتے ہو کہ بیگانہ کوئی ہے
اِس دشتِ جنُوں خیز کا ہر رنگ نیا ہے
دِیوانہ کوئی عِشق میں، فرزانہ کوئی ہے
ہر روز بِلا وجہ وہ بیوی کو گھسِیٹے
ہے شرم کوئی، جوہرِ مردانہ کوئی ہے؟؟
تسلِیم کِیا ہم سے بڑی بُھول ہُوئی ہے
جیسا ہے مِرا دِل کہاں وِیرانہ کوئی ہے
نادِم ہیں کہ ہم عِشق میں ناکام رہے ہیں
اِک جان لُٹا دینا بھی نذرانہ کوئی ہے؟
بِن کیف کبھی دِل کو کہاں چین ہُؤا ہے
مستی میں رہے مست یہ مستانہ کوئی ہے
حسرتؔ ہو بِنا اُن کے بھلا کیسے تشفّی
کہہ دِیجیے اُن آنکھوں سا مے خانہ کوئی ہے؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






