مقروض

Poet: سید محمد ذوہیب شاہ By: سید محمد ذوہیب شاہ , Karachi

مقروض ہوں میں جہاں میں سب کا
ہر شخص نے مجھ کو سِکھایا بہت ہے

فقط الفاظ نہیں، یہ حقیقت ہے میری
ہاں، جذبات کو اپنے چُھپایا بہت ہے

اوڑھا ہے بڑی خوب یہ لباسِ خامُشی
پاس اگرچہ الفاظ کا سَرمایہ بہت ہے

گُزریں گر یہ دِن تو گُزریں گے کیسے؟
دُنیا والوں نے مُجھ کو ستایا بہت ہے

دُنیا کی محفلوں میں جانا ہی کم ہوا
غمِ اُلفت نے پاس اپنے بِٹھایا بہت ہے

آیئنے میں آج دیکھ کر احساس یہ ہوا
اِسی شخص نے مُجھ کو رُلایا بہت ہے

کہتے ہیں کہ بہت ہی رنگین ہے دنیا
ہر شخص نے نیا رنگ دکھایا بہت ہے

چل دۓ سبھی آزمائش میں ڈال کر
حَسبِ توفیق سب نے آزمایا بہت ہے

ہوں بس مُعجزہِ حَق کی تلاش میں
میں نے رَب کو دُکھ اپنا سُنایا بہت ہے

Rate it:
Views: 555
16 Jun, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL