چار دن کی پے
Poet: Rasheed Hasrat By: Rasheed Hasrat, Quettaپرندہ قید ہو گا یہ رہائی چار دن کی ہے
یہی سچ ہے کہ پنجہ آزمائی چار دن کی ہے
ہؤا کیا پانچویں دن کا فسانہ گول کر ڈالا
فقط فرضی کہانی ہی سنائی چار دن کی ہے
ستمگر ظلم ڈھاتا ہے کوئی صبر آزماتا ہے
تکبر چار دن کا ہے، دہائی چار دن کی ہے
پڑا ہے آنکھ پر پردہ ہماری، زندگانی کا
طوالت جس قدر ہو پھر بھی بھائی چار دن کی ہے
پھر اس کے بعد جانے تم کہاں ہو ہم کہاں ہوں گےل
یییدمممڈہمارے بیچ میں یہ آشنائی چار دن کی ہے
الگ ہو گا تو یہ مخلوق تجھ سے خوب نمٹے گی
امیرِ شہر تک تیری رسائی چار دن کی ہے
کرے ہے کوئی دعویٰ پاکبازی کا تسلسل سے
کھلے گا اس کا چہرہ، پارسائی چار دن کی ہے
بچھڑ کر رہ گئے جن سے ملیں گے پھر قیامت میں
کہ دنیا ختم ہو گی، یہ جدائی چار دن کی ہے
کہوں فردوس کا حسرتؔ تمہیں آسان سا نسخہ
ہمیشہ کے لیئے سکھ، بس کمائی چار دن کی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






