چاند کی چاندنی اور انتظار
Poet: Syed Araick Hussain By: Syed Araick Hussain, Sargodhaیہ جو قدم قدم پر بچھڑجانےکا خوف ھے
یہ ایک ایسا سانپ ھے
جو گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ڈستا ھے
بہت تکلیف دیتا ھے
تری آرزو
تری جستجو
تری تمنا
ترا خیال
یہ بلکل ایسا ھے جیسے ایک باغباں،
باغ کے پھولوں کا نگہباں ہوتا ھے
تری تمنا ویسی ہی ھے
جیسے ریگیستان میں مسافر کو پانی کی تلاش ھو
مجھے بہت دور روشنی کی چمک نظر آ رہی ھے
بہت دور
مگر
مگر مجھے ڈر ھے کے کہیں
یہ چاند کی چاندنی نہ ھو جو لا حاصل ھے
نہ ملی، نہ کسی کو مل سکتی ھے
مجھے تو وہ روشنی درکار ھے
جو میری زندگی کی تاریک راہوں کو روشن کر دے
میرے دل میں اجالا کر دے
ابھی میں انتظار میں ھوں
میرے لیے دعا کرنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






