چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
Poet: By: Uzma Ahmad, Lahoreچمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا
بڑا دلکش بڑا رنگین ہے یہ شہر کہتے ہیں
یہاں پر ہیں ہزاروں گھر گھروں میں لوگ رہتے ہیں
مجھے اس شہر نے گلیوں کا بنجارہ بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا
میں اس دنیا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتا ہوں
نہ مجھ سے بن سکا چھوٹا سا گھر دن رات روتا ہوں
خدایا تو نے کیسے یہ جہاں سارا بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا
میرے مالک میرا دل کیوں تڑپتا ہے سلگتا ہے
تیری مرضی، تیری مرضی پہ کس کا زور چلتا ہے
کسی کو گل کسی کو تو نے انگارہ بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا
یہی آغاز تھا میرا یہی انجام ہونا تھا
مجھے برباد ہونا تھا مجھے ناکام ہونا تھا
مجھے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔







