کاش
Poet: Imtiaz Sharif Imtiaz By: RAAZ BHANEWALI, Sialkotکاش میں تیرے گھر کا راستہ ہوتا
تو جب بھی طویل مسافت سے تھکی ہاری
مجھ تک پہنچنے کی بے تاب خواہش کرتی
مجھے دیکھ کر تو بہت خوش ہوتی
میں بھی اپنی چاہت پر ناز کرتا
ہر صبح تیری پائل کی آواز سنتا
پھر کسی حسن کی وادی میں کھو جاتا
کبھی چاندنی رات میں تمہاری خاطر جاگتا
کبھی تمہاری زلفوں کی چھاؤں تلے سو جاتا
مجھے میسر ہوتی تمہارے پیروں کی نرمی
کبھی سرد رت میں محسوس کرتا میں
تمہاری سانسوں کی خوشبودار شیریں گرمی
مجھ سے گلے ملتا تمہارا معصوم سا عکس
کبھی مجھے خوشی کے تہوار پہ سجایا جاتا
میں اپنے مقدر پہ جھومتا تو کبھی کرتا رقص
تو مجھے اپنی نظموں٬ غزلوں کا عنوان بناتی
زندگی کا ہر سفر تو مجھ پہ ختم کرتی
یونہی قربتوں میں پرسکوں زندگی گزرتی
کتنا اچھا ہمارے درمیاں واسطہ ہوتا
کاش میں تیرے گھر کا راستہ ہوتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






