اب تم آؤ یا نہ آؤ ایک برابر

Poet: Imtiaz Sharif Imtiaz By: RAAZ BHANEWALI, Sialkot

اب تم آؤ یا نہ آؤ ایک برابر
ہماری تنہائی گھٹاؤ یا نہ گھٹاؤ ایک برابر

اب ہر دکھ جھیلنا سیکھ لیا ہے ہم نے
اب تم ہمیں ستاؤ یا نہ ستاؤ ایک برابر

اب تمہاری کوئی ادا ہم پل اثر کرتی نہیں
اب تم مسکراؤ یا نہ مسکراؤ ایک برابر

اب تمہارے ستموں کے ہم ہوگئے ہیں عادی
تم سنگ ہم پہ گراؤ یا نہ گراؤ ایک برابر

اب دل مچلتا نہیں تمہارا حسن دیکھ کر
تم خود کو سجاؤ یا نہ سجاؤ ایک برابر

میری سوچوں میں اک سکوں ہوگیا ہے شامل
تم میری بے چینی بڑھاؤ یا نہ بڑھاؤ ایک برابر
 

Rate it:
Views: 595
30 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL