کانٹوں بھرے دامن کو گلشن گلاب کہوں اچھا نہیں
Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabadکانٹوں بھرے دامن کو گلشن گلاب کہوں اچھا نہیں
جلا ہوا سورج ہوں خود کو مہتاب کہوں اجھا نہیں
دکھ تو پہلے بھی سہے ہیں مگر کیسے سمجھاؤں کہ
زندگی میں کتنے آئے ہیں سراب، کہیوں اچھا نہیں
کسی کے حصے میں آئیں تعبیریں کسی کے صرف ادھورے خواب
کیوں اجڑی میری دنیا، اجڑ گئے ہیں خواب، کہوں اچھا نہیں
جس کو لکھا ھے زندگی میں نے دل بے پھر اس سے سوال کیسے
لے کر پھر اپنے ہی سوال کو لا جواب کہوں اچھا نہیں
محبت تو پھر محبت ہے گر بن جائے عشق تنویر
تو پھر پیار میں جدائی کو عذاب کہوں اچھا نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







