طاری ہوا بڑھاپا اور کھو گئی جوانی
Poet: UA By: UA, Lahoreطاری ہوا بڑھاپا اور کھو گئی جوانی
بس دیکھتے ہی دیکھتے گزری یہ زندگانی
وہ چستی و طراری وہ تیز رو جوانی
آئے کہاں سے آخر وہ پہلی سی روانی
طبیعت میں جو تیزی تھی کم تر ہوئی جاتی ہے
جھک جھک کے ہو گئی ہے اپنی کمر کمانی
فطرت کی عاجزی نے اتنا جھکا دیا ہے
لگتی ہے یہ عمارت خستہ بھی اور پرانی
کوئی پوچھ لے مگر ہمیں کہنا نہیں آتا کہ
کیونکر بسر ہوئی ہے اپنی یہ زندگانی
خوشیوں کے شادیانے کہیں آہ و بقا ہے
ہر روز کا فسانہ ہے، ہر روز کی کہانی
دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہیں سبھی پھر بھی
دنیا کے لئے دنیا کیوں ہوتی ہے دیوانی
سب جانتے ہیں لیکن یہ مانتے نہیں ہیں
یہ دنیا عارضی ہے ہر شے یہاں کی فانی
رک جاؤ سنبھل جاؤ حد سے نہ گزر جاؤ
جو پیچھے مڑ کے دیکھو ہو جاؤ پانی پانی
اک بار کی غلطی کو دیکھو نہیں دہرانا
جو ہو چکی نہ کرنا پھر سے وہی نادانی
گردش کی زد میں آ کے عظمٰی گنوا چکے ہم
وہ شورش و ہنگامہ وہ فطرت طوفانی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






