طاری ہوا بڑھاپا اور کھو گئی جوانی
Poet: UA By: UA, Lahoreطاری ہوا بڑھاپا اور کھو گئی جوانی
بس دیکھتے ہی دیکھتے گزری یہ زندگانی
وہ چستی و طراری وہ تیز رو جوانی
آئے کہاں سے آخر وہ پہلی سی روانی
طبیعت میں جو تیزی تھی کم تر ہوئی جاتی ہے
جھک جھک کے ہو گئی ہے اپنی کمر کمانی
فطرت کی عاجزی نے اتنا جھکا دیا ہے
لگتی ہے یہ عمارت خستہ بھی اور پرانی
کوئی پوچھ لے مگر ہمیں کہنا نہیں آتا کہ
کیونکر بسر ہوئی ہے اپنی یہ زندگانی
خوشیوں کے شادیانے کہیں آہ و بقا ہے
ہر روز کا فسانہ ہے، ہر روز کی کہانی
دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہیں سبھی پھر بھی
دنیا کے لئے دنیا کیوں ہوتی ہے دیوانی
سب جانتے ہیں لیکن یہ مانتے نہیں ہیں
یہ دنیا عارضی ہے ہر شے یہاں کی فانی
رک جاؤ سنبھل جاؤ حد سے نہ گزر جاؤ
جو پیچھے مڑ کے دیکھو ہو جاؤ پانی پانی
اک بار کی غلطی کو دیکھو نہیں دہرانا
جو ہو چکی نہ کرنا پھر سے وہی نادانی
گردش کی زد میں آ کے عظمٰی گنوا چکے ہم
وہ شورش و ہنگامہ وہ فطرت طوفانی
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






