کانچ کا دل
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadیوں پتھر نہ دِکھلاؤ ہم کانچ کے دل والوں کو
ٹوٹ کے گر بِکھرے تو پھیلا دیں گے زخموں کو
کس اُمید پہ رکھوں میں نئے رِشتوں کی اساس
ستم ظریفی کہ رُلا دیتے ہیں اپنے ہی اپنوں کو
مجھ سے نہیں دیکھی جاتی اپنوں کی مسیحائی
اے خُدا چھین لے مجھ سے توُ میری سانسوں کو
محبت تو ہمیشہ اِیثار و وفا کا درس دیتی ہے
کوئی تو ہو جو سمجھائے اِن عقل کے اندھوں کو
تم ہمراہ تھے تو کانٹوں پہ بھی چل دیتے تھے
اب کیسے تنہا کاٹیں گے ہجر کی کالی راتوں کو
تیرا یوں بزمِ یاراں میں نظریں جُھکا کے ملنا
ہم تو اب بھی نہیں سمجھے قاتل تیری اداؤں کو
اِس بے لوث محبت میں ہم لُٹ تو چُکے ہیں
اب اور کیا تم تڑپاؤ گے ہم درد کے ماروں کو
جہاں خوشبو کی اُمید دیئے ہر گُل فریب کرے
جی کرتا ہے آگ لگا دوں اِن کاغذ کے باغیچوں کو
میں تو دیوانہ ہوں، یونہی بولنے کی عادت ہے
دل پہ نہ زرا بھی لیجیے گا آپ میری اِن باتوں کو
کیوں حیرت میں پڑے ہو غرض کے بندھن دیکھ کر
تم نہ سمجھو گے رضا جی اِس دور کے تقاضوں کو
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






