کبھی جب دشتِ جاں میں خواہشوں کی آگ جلتی ہے
Poet: موم کی عورت By: Azra Naz, Reading UKکبھی جب دشتِ جاں میں خواہشوں کی آگ جلتی ہے
مرِے اندر چھپی اِک موم کی عورت پگھلتی ہے
تمہاری بے وفائی سے کچھ ایسے دِل مرا اُجڑا
جوانی میں کِسی بیوہ کی جیسے مانگ اُجڑتی ہے
ہے تو آکاش میں دھرتی تجھے چھونا ہے نا ممکن
تجھے پانے کی خواہش کیوں مرے دِل میں مچلتی ہے
رہے آباد تو میری خوشی سے کھیلنے والے
دعا دِل سے مرے تیرے لیۓ ہر دم نکلتی ہے
ہجومِ غم سے گھبرا کر نہ ہو مایوُس خوشیوں سے
غموں کی بارشوں میں زندگی دُھل کر نکھرتی ہے
کبھی جو ا بر سے ٹوٹ کر ساون کے موسم میں
تمہیں کیسے بتاؤں کیا مرے دِل پر گذرتی ہے
کچو کے مجھ کو دیتا ہے مرا احساسِ تنہایٔ
مرے دالان میں جب شام کو سردی اترتی ہے
مجھے عذراؔ تری قربت کا موسم یاد آتا ہے
جواں شب قطرہ قطرہ شمع جیسی جب پگھلتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






