کبھی خود کو میرے اختیار میں دو تو
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurکبھی خود کو میرے اختیار میں دو تو
میں تیری آنکھوں میں اَن گنت خواب سجاؤں
ترے بازؤں کواپنی زات کا حصہ بناؤں
تیری باتوں میں پیار کی روشنی بھر دوں
ترے قدموں کو انتظار کی رہ گزر پہ چلاؤں
جان کر جو تم نظر چُرالیتے ہو
اس نظر کو میں نظر کا چور بناؤں
ان انگلیوں کو تری زلفوں کا لمس دوں
اپنے ہاتھوں میں ترے ہاتھوں کی لکیر ملاؤں
میری شریکِ حیات بن کر تو میرے ساتھ چلے
میں تیری منزل تیرا ہمنوا کہلاؤں
کبھی خود پر جو تم اپنا حق جتاؤ
تجھے لے کے میں تجھ سے بھی دور چلا جاؤں
کبھی خود کو جو میرے اختیار میں دو تو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






