تم آؤ گی
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurسوکھے پیڑوں سے وعدہ کر کےہوا کے پیچھے جاؤ گی
بچھڑ چکے جو پتے ان کو کیسے ڈھونڈ کے لاؤ گی
سوجی آنکھوں کے بارے میں گھر لو فرضی افسانہ
ملنے والوں کو تم کیسے سچی بات بتاؤ گی
دنیا والوں سے ملنے کی خواہش ٹھیک سہی لیکن
عشق کا چلہ کاٹ رہی ہو باہر کیسے آؤ گی
دل میں آنگن میں اب تک اک پیڑ کھڑا ہے یادوں کا
وقت کی آندھی ہار چکی ہے تم کیا اسے گراؤ گی
کہنے کو تو روٹھ گئی ہو اس سے لیکن یاد رہے
آج بھی دیر سے وہ لوٹے گا آج بھی تمہی مناؤ گی
ایک مہینے بعد ملا تو نام بھی وہ میرا بھول گیا
جس نے چلتے وقت کہا تھا “ یاد بہت تم آؤ گی“
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






