کبھی سوچتے تو تھے کہ کسی ستم میں اتر گئے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکبھی سوچتے تو تھے کہ کسی ستم میں اتر گئے
پھر وہ معمول خیال جیسے مجسم میں اتر گئے
نہ شفقت کی چھاؤں نے ٹھہرایا ہم ہی کو
نہ ہی شوخ کسی ہوا کے ردم میں اتر گئے
مجھے ملتے بھی تھے تو مانوس سب اپنے
حسرت کے بھی نہ کہیں عدم میں اتر گئے
ہاں اک دنیا تھی یا وہ فریب تھا بس
جو بھی آغوش ملا اسی جسم میں اتر گئے
کہاں کوئی مجھے تب رنجش بھی رلاتی تھی
اگر تھوڑے بہکے بھی تو پھر قدم میں اتر گئے
میرے قریب تو سب سوچیں غافل تھی پھر
سبھی حشر سنتوش جیسے خَدم میں اتر گئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






