کرونا وائرس کا پیغام
Poet: شمیم عرفانی ( M.Shameem Irfani ) By: شميم عرفاني, Afif, Saudia Arabiahیہ کیا افتاد ہے ، کیسی بلا ہے ، کیا مصیبت ہے
یہ ہنگامہ ہے کیوں برپا ،نہ جانے کیسی آفت ہے
یکایک ہوگئی محبوس کیونکر زندگی اپنی
مچی اقصائے عالم میں بھلا کیسی قیامت ہے
یہ کیا ان دیکھی شئ ائی ہے دنیا میں وبا بن کر
پریشاں ہر بشر ، ہر صاحب دل ، ہر حکومت ہے
خزاں دیدہ چمن سا ہو گیا کیوں گلشن عالم
نہ رنگ و نور، نہ نغمہ، نہ خوشبو ہے نہ نکہت ہے
عجب وہم وگماں کی کیفیت رقصاں ہے دنیا میں
ہر اک چہرے پہ وحشت ہے نظر میں اجنبیت ہے
یہ جو افتاد ہے انسانیت پر اے جہاں والو !
خردمندان عالم کے لئے اک درس عبرت ہے
کہاں ہیں بندگان سیم و زر ، ارباب دانش اب
جو کہتے تھے ہماری،سارے عالم پر قیادت ہے
وہ جن کو زعم تھا کل اپنی طاقت ، پیشوائی کا
ہر اک اس ناگہاں افتاد پر کیوں محو حیرت ہے
یقینا یہ کورونا جس کو اک مہلک وبا کہئے خدا والو! تمہارے واسطےاس میں نصیحت ہے
بظاہر اک مرض ہے یہ کورونا وائرس لوگو !
حقیقت میں مگر اپنے گناہوں کی عقوبت ہے
یہ کفر و زندقہ ، الحاد و بے دینی کی آلائش
ذرا سوچو کہ کس دلدل میں ڈوبی خیر امت ہے
یہ قتل وِ خوں، اباجیت یہ فحاشی معاذ اللہ
ہر اک لمحہ یہاں آئین فطرت سے بغاوت ہے
امیری اور غریبی میں بھلا کیوں حد فاصل ہے
جہاں میں کیوں نہیں اب احترام آدمیت ہے
بھلا اس قوم کو اقبال حاصل ہو تو کیونکر ہو
جہاں قوم و نسب کے نام پر گندی سیاست ہے
گناہوں سے کرو توبہ ، کرو تم فکر عقبی کی
کرو بس کام وہ یارو! جو از روئے شریعت ہے
صلاة وصوم سے اذکار سے دل کو کرو روشن
اگر خوشنودئ رب کی تمہارے دل میں چاہت ہے
الہی! رحم فرما تو ہماری بے بسی پر اب
کہ ہر سو تیری ہی قدرت ، تری ہی بادشاہت ہے
شمیم! اہل جہاں کو ، بس یہی پیغام ہے اپنا
چلو تم جادہء حق پر، اگر کچھ بھی بصیرت ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






