کر کے
Poet: Shama Ansari By: Shama, Gujranwalaساری دنیا کے رواجوں سے بغاوت کر کے
میں اُسے روز مانگتی ہوں کچھ سخاوت کر کے
یہ خمارِ عشق ہے لاحاصل ہی رہے شاید
وہ جیت گیا کچھ سخن وروں سے عداوت کر کے
جانے کس کی لگی نظر گھر کے مکین کو
جا بسا ہے کہیں اور میرے نفس کی ضیافت کر کے
جب بھی کہا اُس نے کہا تم لڑکیاں ہوتی ہو بیوفا
شکوہ نہیں رکھا بتایا بس محبت ہی محبت کر کے
بہت آسان لگا کہنا نئے بندھن میں بندھ چکا ہوں
آیا نہ پھر کبھی میرے جذبوں میں قیامت کر کے
جلتے جلتے یوں ہی بجھ جائے اک روز تو کیا غم
شعلہ کوئی نیا نہ بھڑکائے گی شمع محبت میں خیانت کر کے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







