چاند بَن جا تاریک راتوں کا

Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabad

سوز کہتا ہے تیری باتوں کا
تو مُسافر ہے فقط راتوں کا

تیری رُخسار پر غبارِ راہ
چشمِ آلود خشک سا دریا
تیرا چہرہ ہے یا کوئی صحرا

تیرے زخموں کے زاویے ایسے
جیسے لشکر بَلا کا ٹوٹا بو
تیری اُفسردگی بتاتی ہے
تجھے محافظوں نے لوٹا ہو

تیرے وجود کا اِشارہ ہے
کہ جیسے بھوک تیرا چارہ ہے
تجھے بے چارگی نے مارا ہے
یا تیری سادگی نے مارا ہے

تیری ہر بات اَن کہی لیکن
تیرے سکوت نے کہی لیکن
جس کا ڈر تھا ہوا وہی لیکن
تو نے تکلیف تو سَہی لیکن

اِس سے پہلے تجھے عدو آ لے
گوہر اِک ذات میں نمو پَا لے
کیوں نمونہ بنا ہے ذاتوں کا
چاند بن جا تاریک راتوں کا

Rate it:
Views: 1316
01 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL